تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزه نیوز ایجنسی | شام بن عبدالملک نے 105ھ میں اموی خلافت سنبھالی اور 125ھ میں اس کا عہد ختم ہوا۔ اس کا تقریباً بیس سالہ دور اموی سلطنت کے ظاہری استحکام کے باوجود ظلم، جبر، اہل بیت علیہم السلام سے دشمنی، سیاسی کشمکش اور داخلی بے چینی کا ایک اہم دور تھا۔ تاریخی و روایتی زاویے سے ہشام کی شخصیت کو محض ایک سیاسی حکمران کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا؛ وہ اہل بیت علیہم السلام کے مخالف اموی نظام کا ایک نمایاں نمائندہ تھا، جس کے عہد میں امام محمد باقر علیہ السلام اور دیگر علوی شخصیات کو شدید سیاسی دباؤ اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
امام محمد باقر علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزندِ گرامی امام زین العابدین علیہ السلام کے فرزند ارجمند اور سلسلۂ امامت کی پانچویں کڑی تھے۔ آپؑ نے مدینہ منورہ میں علومِ قرآن، حدیث، فقہ، عقائد اور معارفِ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیم و ترویج کے ذریعہ ایک عظیم علمی مکتب کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ اموی حکومت کے لئے یہ سرگرمی محض ایک علمی مشغلہ نہیں تھی؛ اہل بیت علیہم السلام کی علمی مرجعیت، روحانی مقبولیت اور مسلمانوں کے درمیان بڑھتا ہوا اثر اموی اقتدار کے لئے ایک حقیقی چیلنج تھا۔
ہشام بن عبدالملک کے رویے میں امام محمد باقر علیہ السلام کے ساتھ اس عداوت کے متعدد شواہد روایات میں ملتے ہیں۔ اسے امامؑ کی علمی عظمت اور عوام میں آپؑ کے احترام سے شدید تشویش تھی۔ روایات میں ہشام کے ذریعہ امامؑ کو شام طلب کرنے، آپؑ کی توہین کی کوشش کرنے اور آپؑ کی سرگرمیوں پر نگرانی رکھنے کا ذکر ملتا ہے۔ حتیٰ کہ امامؑ کے لقب ’’باقر‘‘ کو تحقیر کے انداز میں تبدیل کرنے کی کوشش بھی منقول ہے۔ اس کے مقابلے میں امامؑ کی علمی عظمت اور وقار نے اموی حکمران کی تحقیر کو خود اس کے اخلاقی زوال کی علامت بنا دیا۔
امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی تحریک دراصل ایک ایسے دور میں اسلامی فکر کی تجدید تھی جب اقتدار نے دین کو سلطنت کے مفادات کے تابع کرنے کی کوشش کی تھی۔ امامؑ نے قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات، توحید، نبوت، امامت، اخلاق اور فقہِ اہل بیت علیہم السلام کو منظم انداز میں آگے بڑھایا۔ یہی علمی خدمت بعد میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے عہد میں ایک عظیم علمی مکتب کی صورت میں مزید وسیع ہوئی۔
امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت 7 ذی الحجہ 114ھ میں ہوئی۔ آپ کی شہادت کا سبب وہ زہر تھا جو ہشام بن عبدالملک نے دلایا تھا۔
امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے بعد اہل بیت علیہم السلام کی جدوجہد کا ایک دوسرا نمایاں پہلو حضرت زید بن علی علیہ السلام کے قیام میں سامنے آیا۔ جناب زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ امام زین العابدین علیہ السلام کے فرزند، امام محمد باقر علیہ السلام کے بھائی اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے چچا تھے۔ تاریخی مصادر میں ان کے علم، عبادت، تقویٰ، شجاعت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے حوالے سے ان کی عظمت بیان ہوئی ہے۔
شیعہ اثنا عشری عقیدے کے مطابق زید بن علیؑ امامِ معصوم نہیں تھے اور امامت امام محمد باقر علیہ السلام اور ان کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام سے متعلق تھی، لیکن اس سے زیدؑ کی عظمت، علم، تقویٰ اور ظلم کے خلاف ان کے قیام کی قدر و منزلت کم نہیں ہوتی۔ ان کا قیام اموی مظالم کے خلاف علوی مزاحمت کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
جناب زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے قیام کے پس منظر میں کوفہ کے لوگوں کی دعوت، اموی حکومت سے شدید ناراضگی، اہل بیت علیہم السلام سے وابستگی اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا جذبہ موجود تھا۔ کوفہ کے لوگوں نے جناب زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کو خطوط لکھے، حمایت کا وعدہ کیا اور انہیں اموی حکومت کے خلاف قیام کی دعوت دی۔ لیکن جب عملی امتحان کا وقت آیا تو ایک بڑی تعداد نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔
جناب زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے 121ھ یا 122ھ کے قریب کوفہ میں قیام کیا۔ اموی حکومت نے اسے اپنے اقتدار کے لئے خطرہ سمجھا اور ہشام بن عبدالملک نے عراق کے گورنر یوسف بن عمر ثقفی کے ذریعہ اس تحریک کو کچلنے کی کارروائی کی۔ جناب زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ جنگ میں زخمی ہوئے اور شہید ہوگئے۔
جناب زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت کے بعد ان کے جسدِ اطہر کے ساتھ بھی سخت سلوک کی روایات ملتی ہیں۔ ان واقعات نے علوی خاندان اور محبانِ اہل بیت علیہم السلام کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت نے یہ حقیقت مزید نمایاں کردی کہ اموی اقتدار اہل بیت علیہم السلام سے وابستہ کسی بھی ایسی آواز کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھا جو ظلم کے خلاف اٹھ کھڑی ہو۔
ہشام کے عہد میں امام محمد باقر علیہ السلام کا علمی جہاد اور جناب زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا عملی قیام بظاہر دو مختلف راستے تھے، لیکن دونوں کے پس منظر میں ایک ہی حقیقت نمایاں تھی: اہل بیت علیہم السلام کے مکتب کی حفاظت اور ظلم و جبر کے خلاف حق کی آواز۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے علم کے ذریعہ امت کے فکری وجود کو زندہ رکھا، جبکہ زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے زمانے کے حالات میں ظلم کے خلاف قیام کیا۔ امامؑ نے باطل حکومت کے مقابلے میں مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی فکری بنیادیں مضبوط کیں اور زید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی جان پیش کرکے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی عملی مثال قائم کی۔
ہشام سمجھتا تھا کہ اقتدار، نگرانی، قید، دھمکی اور طاقت کے ذریعہ اہل بیت علیہم السلام کے اثر کو محدود کیا جاسکتا ہے، لیکن تاریخ نے اس کے برعکس ثابت کیا۔ امام محمد باقر علیہ السلام کا علم آج بھی زندہ ہے، امام جعفر صادق علیہ السلام کے ذریعہ وہ مکتب مزید وسیع ہوا، اور زید شہید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی مظلومانہ شہادت ظلم کے خلاف علوی استقامت کی علامت بن گئی۔
6 ربیع الثانی 125ھ کو رصافہ میں ہشام کی موت ہوئی۔ اس کے بعد اموی اقتدار تیزی سے داخلی انتشار اور سیاسی کشمکش کا شکار ہوا۔ چند ہی برس بعد 132ھ میں عباسی تحریک نے اموی خلافت کا خاتمہ کردیا۔
یوں ہشام بن عبدالملک کا طویل عہد تاریخ کے سامنے ایک واضح تضاد بن کر رہ گیا: ایک طرف وسیع سلطنت، فوجی طاقت اور شاہانہ اقتدار؛ دوسری طرف اہل بیت علیہم السلام سے دشمنی، علوی خونریزی اور ظلم کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت۔
اقتدار ہشام کے پاس تھا، مگر دلوں پر حکومت امام محمد باقر علیہ السلام کے علم نے کی۔ سلطنت امویوں کے پاس تھی، مگر تاریخ نے عزت اہل بیت علیہم السلام کے نام لکھی۔ ہشام کا تخت باقی نہ رہ سکا، لیکن امام محمد باقر علیہ السلام کا مکتب آج بھی زندہ ہے۔
یہی تاریخ کا فیصلہ کن سبق ہے کہ ظلم کی حکومت وقت کو کچھ عرصے کے لئے خاموش کرسکتی ہے، مگر حق، علم اور ولایت کی آواز کو ہمیشہ کے لئے خاموش نہیں کرسکتی۔









آپ کا تبصرہ